Saturday, March 28, 2009

قصہ کچھ ہماری فطرت ثانیہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی ہم کلینک نماڈربے سے ڈاکٹر صاحب کے سلیقہ اور قابلیت کا اندازہ لگانے کی کوشش میں ہی تھے کہ وہ تشریف لے آئے ۔۔۔۔چند منٹوں میں انہوں نے ہمارے ساتھ آئے ہوئے اصلی مریض کی خبر گیری کی ۔۔۔۔۔۔اور اس کے بعد ہم نے یوں ہی ان سے سیکنڈ اوپینئن لینے کی خاطر اپنا منہ کھول دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہنے لگے ہوںووں تو آپ کے خیال میں کون سا دانت نکالنا چاہیے ۔۔۔ہمیں ہنسی آگئی ۔۔۔۔مگر ڈاکٹر صاحب بدستور سنجیدہ نظر آنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔یہ تو آپ بتائیں گے ناں مجھے کیا پتہ ،ہم نے مزید ہنسنے کو پروگرام ملتوی کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔۔۔نہیں آپ خود بھی سیانی ہیں بتائیں ۔۔۔۔۔ہمیں پھر ہنسی آگئی اور پتہ نہیں سیانی پر آئی یا پھر بھی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن پھر ڈاکٹر صاحب کا سنجیدہ منہ دیکھا کر ہم نے بھی سنجیدہ ہونے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔وہ تو ٹھیک ہے مگر ڈاکٹر تو آپ ہیں آپ بتائیں ۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے ہمارا ہاتھ یونہی ایک دانت پر عادتاً جا ٹھرا ۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب فورا بولے ہاں یہی دانت نکالناہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب پلٹے اپنےپانی میں کھولتے ہوئے اوزاروں کو الٹ پلٹ کر نے لگے ہم انتظار کرنے لگے کہ وہ کوئی مشورہ دیں۔۔۔۔۔وہ دوبارہ ہماری طرف متوجہ ہوئے کسی اوزار کے ساتھ غالبا ہمارےدانتوں کا تفصیلی معاءنہ کرنا چاہ رہے تھے سو ہم نے منہ پورا کھول دیا ۔۔۔یونہی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر ہم نے تھوڑی سی گردن اٹھانا چاہی کہ معلوم تو ہو کیا ہے ان کےہاتھ میں ۔۔۔۔لیکن پھرسر کرسی کی ٹیک سے لگا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تو بھلا ہوان کا کہنے لگے بس کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں ہوگا مطلب کچھ ہوگا ہم نے فورا جملے کو پروسیس کیا اور گردن کو ایک جھٹکے سے اٹھا کر دیکھا ارے اس آلے کے سرے پر تو سوئی بھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔آپ دانت ابھی نکالنے لگے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔نہ جانے یہ سوال کہاں ابھرا تھا ہماری زبان سے تو صرف پھسلا ہی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں انجکشن ابھی لگائیں گے دانت اگلے مہینے نکالیں گے ۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے تیئں بڑا ظنز کیا مگر ہم اچھل کر کرسی سے اتر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ہمیں دانت نہیں نکلوانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ہم وہاں مزید نہیں ٹھہرے ۔۔۔۔۔۔۔۔
طبقاتی فرق پر مشتمل ہمارا یہ معاشرہ بھی عجیب ہی ہے پہلے تو اچھے ڈاکٹر کو افورڈ کرنا ہی آپ کی مالی حیثیت کا آئنہ دار تھا پھر جب سے تعلیم کے شعبےپر بھی کر پشن کے شیداءیوں کی نظر عنایت بڑھی تو اب تو حال یہ ہے کہ ڈاکٹر بننا بھی آپ کے اسٹیٹس کو ظاہر کرتا ہے ۔ابھی تک تو ذہن انہی باتوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیںتھا کہ کس طرح لوگ دھڑلےسے نقل کرتے سفارش کرواتے ،پیپرز میں نمبر لگواتے ہیں ۔۔۔۔لیکن اب تویہ سب باتیں اتنی عام ہوچکی ہیں کہ اب انہیں چھپانے یا ان پر شرمندہ ہونے کی بجائے بڑے فخر سے دوستوں کی محفل میں بیان کیا جاتا ہے ۔۔۔۔اور سننے والے سب بڑے رشک سے اس شخص کو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جس کی کرپشن کی داستان جتنی شرمناک ہوگی وہ اتنا ہی معزز سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بااثر خیال کیا جاتا ہے اسکی دوستی پر فخر کیا جاتاہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تعلیم کوطبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کے لئے بری طرح سے استعمال کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے لئے ہر ناجائز حربہ استعمال کیاجارہا ۔۔۔۔۔فرح کیس یا پھر پچھلے دنوں منظر عام پرآنے والی سکول پر چھاپے کی کارواءی تو ہماری تعلیمی دیگ کے محض چند دانے ہیں جن سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس سسٹم میں طلباء کو جو واحد سپرٹ ملتی ہے وہ ہے نمبروں کا حصول اور اس کے لءے ہر ناجائز ذریعہ استعمال کرنا ۔۔۔۔۔ہم نے ایک محترم استاد کو نقل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے یہاں تک فرماتے سنا کہ جیسے زندگی بچانے کے لئے ناجائز چیز کا استعمال جاز ہے اسی طرح اس وقت یہ نقل ہماری ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساءنس ٹیکنالوجی اور ایجادات کی کمی کا تو کیا رونا ہم تو وہ بھی نہیں ہیں جو ہم بظاہر نظر آرہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم تو اپنا فرسودہ نصاب بھی بغیر کسی کرپشن کے پاس کر نے کے روادار نہیں آخر ہم جا کہاں رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری آنکھوں میں ایوانوں میں بیٹھے کرپٹ لوگ تو چند دن بعد کھٹکنے لگتے ہیں اور ہم تحریکوں کے ذریعے پھر سے انہی کی آل اولاد کو لا بیٹھاتے ہیں مگر ہم اس کرپشن کو تو بھول ہی گئے ہیں جو ہم میں سے ہر شخص کی فطرت ثانیہ بنتی جارہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

7 Comments:

At March 28, 2009 at 9:52 AM , Blogger عین لام میم said...

سلام
آپ کی باتوں سے میں مکمل اتفاق کروں گا سارہ۔
آجکل واقعی ہمارا یہ حال ہو چکا ہے کہ اگر کوئی اپنی نقل یا کسی بھی قسم کی کرپشن کا قصہ سنائے تو نہائت غور سے سننے کے بعد اسکی قسمت پہ رشک بھی کرتے ہیں کہ یہ سب ہم نے کیوں نہ سوچا۔ ۔ ۔ ۔!
لیکن میں اس سارے معاملے اور حالت کا ساٹھ فیصد ذمہ دار اپنے بڑوں کو ٹھراؤں گا جو ہمیں اس طرف دھکیلتے رہے ہیں۔ ۔ ۔اور ظاھری کامیابی اور نمبروں کو ہی اصل مقصد سمجھتے رہے ہیں اور ہمیں بھی یہی سکھایا ہے کہ بیٹا! ہر حال میں اچھے نمبر ہی آنے چاہیئں۔۔ ۔ ۔ ۔اور اگر کبھی کسی بھی وجہ سے نمبر کم آ جائیں یا کسی اور امتحان میں کمی رہ جائے تو اپنی اولاد کی خاطر سب کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ۔ ۔ !
ہم بھی یہی کریں گے۔ ۔ ۔آخر!!

 
At March 28, 2009 at 7:34 PM , Anonymous دوست said...

آپ کا کہنا بالکل درست ہے۔ تعلیم علم نہیں روزی روٹی کا ذریعہ بن گئی ہے۔
پس موضوع: لگتا ہے آپ کو ئ لکھنے میں دشواری کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سائنس کو ساءنس لکھا گیا ہے۔ ہمزہ ی یعنی ئ یا تو یو پر ہوگی یا پھر شفٹ 4 پر ہوگی آپ کے اردو کی بورڈ میں۔
وسلام

 
At March 29, 2009 at 1:36 AM , Anonymous jafar said...

سارہ۔۔۔ یہ باتیں کرتے اور سنتے ہوئے زبانیں شل اور کان پک گئے ہیں، کوئی اثر نہیں ہوا، لہذا ڈھیٹ ہوجائیں۔۔۔ زندگی آسان ہو جائے گی۔۔۔
:mrgreen: :mrgreen:

 
At April 16, 2009 at 9:45 PM , Anonymous افتخار اجمل بھوپال said...

درست لکھا آپ نے ۔ میرا ایک تجربہ یہاں لکھنا ضروری ہو گیا ہے ۔ میں ایک دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس گیا کہ میرے فلاں دانت میں درد ہوتا ہے ۔ اُس نے کہا کہ کھوڑ ہے اور نے فلنگ کر دی مگر درد اپنی جگہ قائم رہا ۔ میں پھر ڈاکٹر کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ جو کھوڑ تھی ویسے ہی رہی اور ڈاکٹر صاحب نے اچھے والے دانت میں سوراخ کر کے فلنگ کر دی دی تھی ۔ یہ ڈاکٹر صاحب بی ڈی ایس کے بعد بیس سالہ تجربہ رکھتے تھے

 
At May 5, 2009 at 9:13 PM , Anonymous ابوشامل said...

محترمہ عرصۂ دراز ہو گیا ہم آپ کے بلاگ پر نئی تحریر کی زیارت سے محروم ہیں۔ کہیں امتحانات وغیرہ تو نہیں چل رہے؟

 
At May 9, 2009 at 4:31 AM , Blogger sarapakistan said...

عین لام میم
بہت بہت شکریہ ۔۔۔ہم خود کو تو بدل سکتے ہیں‌نا تاکہ ہمارے چھوٹے کل یہی بات نہ کہہ سکیں۔۔۔۔
۔دوست
بہت شکریہ
سائنس کی یہاں یہی حالت ہے ۔۔۔ویسے واقعی مسلہ کی بورڈ‌ میں‌ہی تھا بہت شکریہ نشاندہی کا ۔
۔جعفر
بہت شکریہ مگر کارواں‌ کے دل سے احساس زیاں‌کا چلے جانا ہی اصل تباہی ہے۔۔۔
افتخار اجمل بھوپال
بہت شکریہ ۔۔۔میری والدہ کی ایک اچھی داڑھ ایک خراب داڑھ کے ساتھ ہی نکال دی تھی ایک ڈاکٹر نے ۔۔۔۔کافی مہنگا اور کوالیفائیڈ تھا شاید اس لئے ۔۔۔۔۔
ابو شامل
فہد بھائی بہت بہت شکریہ یاد رکھنے کے لئے ۔۔۔بس امتحانات بھی چل رہے تھے جو سیمسٹر سسٹم میں‌تو چلتے ہی رہتے ہیں‌اور کچھ دوسری مصروفیت بھی تھی اور شاید میری سستی ۔۔۔۔اب کوشش کروں گی کہ کم از کم مہینہ میں‌ایک تحریر لکھنے کا ٹائم تو لازمی نکال لو ۔۔۔۔بہت شکریہ یادرکھنے کا بہت خوشی ہوئی ۔۔۔

 
At May 24, 2009 at 10:22 PM , Anonymous DuFFeR - ڈفر said...

دو مہینے ہو گئے آپ کو تو غائب ہوئے
خیر خیریت کی ہی بلاگ پوسٹ کر دیں
:D

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home