Wednesday, January 20, 2010

شاعر حضرات اور قلبی واردات

بھائی جان کی شاہکار تحریر حال ہی میں نظر سے گزری ،جس میںانہوںنے خواتین شاعرات کی قلبی وارداتوں سے انکار کا شکوہ کیا ہے ،شاید کہیں یہ گمان ہو کہ اگر قلبی وار داتوں کو اعتراف موجودہ نسل کی شاعرات کر لیں تو بیشتر کی زبان پر ایک ہی نام ہو ۔۔۔۔یوں بد نام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
ہمارا خیال ہے کہ بھائی جان کی شاعر حضرات کی قلبی وارداتوں پر روشنی ڈالنی چاہیے تھی کیوں کہ ان سے بہتر یہ کام کوئی نہیں کر سکتا ماشاء اللہ آپ خیر سے شاعر بھی ہیں ۔۔۔۔
ہم نے سوچا تھا کے اردو محفل پر ان کی تحریر کے نیچے یہ دھمکی نما جواب درج کر آئیں کہ کچھ اس بارے میں بھی لکھیئے مگر پھر سوچا دھمکی تو بزدل لوگ دیا کرتے ہیں ہم خود ہی کچھ لکھ لیتے ہیں ۔۔۔اور پڑھ بھی خود ہی لیں گے ۔۔
تو جناب بات کرتے ہیں شاعر حضرات کی ''قلبی وارداتوں ''کی ۔۔۔لیکن پہلے اگر ہماری تحریر کو بچے پڑھ رہے ہیں تو ان کی انفارمیشن کے لئے بتاتے چلیں کہ قلبی واردات کہتے کسے ہیں ۔تو جناب بچو !قلب کہتے ہیں دل کو اور واردات کہتے ہیں ۔۔بھئی کسی بھی چوری ،ڈکیتی وغیرہ وغیرہ کو ۔۔۔قلب کے آگے ''ی''کیا ہے ارے یہی تو وہ ''ی''ہے جس کی وجہ سے قلبی واردات رونما ہوتی ہے ۔میرا خیال ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے ۔۔۔اگر نہیں سمجھے تو آپ واپس اسی راستے سے چلے جائیں جہاں سے اس بلاگ پر آئے ہیں ۔۔ویسے اگر آپ گوگل سرچ سے آئے ہیں تو یہ تو بتاتے جائیں کہ آپ تلاش کیا کر رہے تھے ۔۔۔کچھ لوگ ہمارے بلاگ پر سارہ پیلن کی تلاش میں آپہنچتے ہیں ۔۔ہمیں ان سے ہمدردی ہے۔۔اور اگر آپ سارہ پیلن کو نہیں جانتے تو ہمیں آپ سے بھی ہمدردی ہے ۔۔۔بھئی وہی سارہ پیلن جو ہمارے صدر صاحب کی ''واردات ''معاف کیجیے گا ''قلبی واردات ''کی وجہ سے پاکستان میں مشہور ہوگئی تھیں ۔
معاف کیجیے گا بات کہاں سے کہاں چلی گئی بس کیا کریں بات نکلے گی تو پھر دور تک تو جائے گی نا !
ہم بات کر رہے تھے کہ شاعر حضرات کی قلبی واردات کی ۔جناب قلبی واردات کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔۔تاریخ میں ایسے واقعات بھی ہیں جب کسی شہزادے نے ڈولی میں سے جھانکتا ہوا محض دوپٹے کا ایک پلو دیکھ لیا اور جناب بس پھر کیا تھا قلبی واردات ہوگئی ۔۔۔
ایک بات یہ بہت اہم ہے کہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔۔۔شاعر ہونے اور خاص کر مشہور شاعر ہونے کے لئے قلبی واردات کاہونا اتنا اہم نہیں جتنا اس کا بر ملا اور بار بار اعتراف کرنا ۔۔۔ورنہ لوگ آپ کو دو ٹکے کا بھی نہیں جانتے ۔۔۔۔سو بہت سوں نے مشہور ہونے کے لئے کئی کئی وارداتوں کے رونماہونے کا اعتراف کیا تب کہیں جاکر نام ور ہوئے ۔۔
پچھلے ایک سال کے دوران ہمیں ہر بڑے شاعر کی برسی پر ان کے احباب میں سے کسی کی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔۔۔اور نہایت معذرت کے ساتھ ہم اس نتیجے میں پہنچے ہیں کہ اگر کوئی اس قدر ''ٹن ''حالت میں رہے گا تو پھر ''واردات'' کا ہونا تو عجب نہیں ،نہ ہونا البتہ ایک عجیب واردات ہوگی ۔۔۔
مے نوشی اور جام و سرور کا ذکر یوں ملا گویاہمیں محسوس ہونے لگا کہ اگر اس دنیا میںکوئی بڑا نام بنانا ہے تو پھر ۔۔رہنے دوابھی ساغر ومینا میرے آگے
''قلبی واردات ''کی اہمیت کا اندازہ آپ یہاں سے لگائیے کہ ایک سید زادے نے تو شاعری میں بڑا نام پیدا کرنے کے لئے اپنے ابا حضور کی نصیحت پر باقاعدہ قلبی واردات کا اہتمام کیا اور عشق فرمایا ،اور یوں یہ سعادت مند بیٹا اپنے ساتھ ساتھ اپنے ابا حضور کا نام بھی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے رقم کر گیا ۔۔۔
قربان جائیے ایسے سعادت مند بیٹے اور اس کے ابا پر۔۔۔
سو ثابت ہوا کہ قلبی واردات شاعری میں بڑا نام پیدا کرنے کے لئے از حد ضروری ہے ۔۔۔۔اگر ذرا غور فرمائیے تو شاعرات کے لئے بھی یہی اصول بہت حد تک لاگو دکھائی دے گا ۔۔۔
ایک بڑے شاعر کی قلبی واردات کا ذکر ایک مصنف کی زبانی دے رہے ہیں ،شاعراور مصنف کا نام ہم نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر نہیں دے رہے ،کیونکہ بہرحال ان کے مداحوں کی کمی نہیں ہے ۔۔۔اور ہم اپنے بلاگ پر دنگا فساد بالکل بھی پسند نہیں کرتے ۔۔۔سو اگر آپ نام پہچان جائیں تو یہ آپ کا اپنا حسن ِنظر ہوگا اسے اپنے تک ہی محدود رکھیئے گا ،
مصنف شاعرحضرت کی زبانی لکھتے ہیں :
''غالباً نویں یا دسویں جماعت کے دن ہوں گے جب وہ زندگی میں آئی تھی ۔مجھ سے ایک سال آگے تھی وہ ۔مجھے اس کے خدو خال اب بھی یاد ہیں ۔وہ بہت حسین تھی ،شاید اس لئے کہ اس عمر میں سبھی لڑکیاں حسین ہوا کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔وقت گزرتا چلا گیا اور پھر اک روز اس کی شادی ہوگئی ۔کتنا ہی عرصہ اس فسوں میں گزار دیا کہ وہ شریک سفر کیوں نہ ہوسکی ۔وہ چلی گئی تو پھر جو در ملا اسی در کے ہوگئے ۔کتنے ہی حسین چہرے تھے ،جو قریب آئے ،وقت گزارا اور چلے گئے ۔''
ماشاء اللہ یہ یاد نہیں کہ نویں میں تھے یا دسویں میں یہ یاد رکھنا شاید ضروری بھی نہیں تھا ۔۔۔آگے ملاحظہ ہو اس محبت کا انجام :
''پھر یوں ہوا کہ اک روز اچانک اس سے ملاقات ہوگئی ۔اسے دیکھا اور بس دیکھتے رہ گئے ۔رخسار ڈھلکے ہوئے ،ہونٹوں پر ویسی زندہ مسکراہٹ بھی نہیں ،ویران ساچہرہ ،آنکھیں کشش سے خالی ،بدن بے ڈول ور بھدا ۔اور وہ جس کے حسن کو نگاہ سہہ نہیں پاتی تھی اب اس کے ساتھ وقت گزارنا مشکل تھا ۔اس ملاقات کے بعدکبھی اسے کھو دینے کا احساس نہیں ہوا۔۔۔۔۔''
قربان جائیے اس سادگی پر ۔۔۔آج کے دور میں جب ڈھلکے رخسار ،بڑھے پیٹ اور بہت سی خامیاں ،ٹمی ٹک،لائپو سیکشن ،بو ٹیکس،اور ناجانے کیا کیا کچھ جو کاسمیٹکس سرجری اور لیزر تھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے جس سے سب خامیاں اور وقت کی دی گئی نشانیاں مٹ جاتی ہیں اور آپ کا محبوب پھر سے ''نیا کا نیا ''ہوجاتا ہے ۔۔۔۔اگر آپ اس میں محض حسن ہی تلاشتے ہیں تو ۔۔۔۔
یہ بھی عجب ستم ہے یا واردات ہی کہہ لیجیے کہ گر ''ہیروئن ''آپ کو نہ ملی تو اس کا زہر ساری نسل کی رگوں میں اتارنے چل پڑے ۔۔۔جس عمر میں انہیں آگے بڑھنا ہو اس میں وہ ''در در کی خاک چھاننے ''نکل کھڑے ہوں ۔۔۔۔

11 Comments:

At January 20, 2010 at 7:59 AM , Blogger عنیقہ ناز said...

مزے کا لکھا ہے بھئ۔ ذرا فیس بک پہ بھی ڈالدیں۔ بھائ جان بھی تو مستفید ہوں۔ اور وہاں دنگا فساد فی الحال اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔

 
At January 20, 2010 at 7:53 PM , Blogger sarapakistan said...

عنیقہ جی
بہت بہت شکریہ .... بھی ایسی کون سی جگہ ہے جہاں دنگا فساد نہیں ہوتا ..ہم لوگ تو بات بات پر آستینیں چڑھا لیتے ہیں ...فیس بک پر لنک دیا ہے اور بھائی جان کو بھی لنک سینڈ کیا ہے امید ہے نظر کرم کر لیں گے ...پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ

 
At January 20, 2010 at 9:47 PM , Anonymous جعفر said...

یہ تو بڑی زیادتی ہے جی کہ اتنا اچھا لکھتی ہیں اور اتنا کم
بہت عمدہ۔۔۔
تسلسل سے لکھ کر مشکور ہونے اور ممنون ہونے کا موقع ارزاں کریں۔۔۔
:lol:

 
At January 20, 2010 at 10:05 PM , Anonymous ابوشامل said...

سارہ ایک جانب جہاں آپ کے بلاگ کے دوبارہ متحرک ہونے کی خوشی ہے وہیں اتنی شاندار تحاریر اردو بلاگستان میں آنا خوشی کو دوبارہ کر رہا ہے۔
بہت خوب لکھا ہے گو کہ مزاح لکھنا بلکہ عام سا لکھنا بھی ہمارے بس کی بات نہیں ہے لیکن کم ایک تحریر جو کئی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دے، وہ واقعی قابل ستائش ہے۔ اللہ مزید ہمت دے۔

 
At January 20, 2010 at 10:46 PM , Blogger sarapakistan said...

جعفر
بہت بہت شکریہ ..آپ تو شرمندہ کر رہے ہیں ..آپ کے تبصرے کے لئے مشکور اور ممنون ہوں
اب کوشش ہے کہ لکھتی رہوں ....

 
At January 20, 2010 at 10:49 PM , Blogger sarapakistan said...

ابوشامل
فہد بھائی بہت بہت شکریہ ...آپ کی حوصلہ افزائی اور آپ کا قیمتی تبصرہ ہمیشہ مجھے اور لکھنے کا حوصلہ دیتا ہے ...بہت بہت شکریہ

 
At January 22, 2010 at 3:07 AM , Blogger محمد احمد said...

سب سے پہلے تو معذرت کہ کل آپ کی تحریر پر بھائی جان کی تحریر کا لنک دیکھ کر ہم فوراً ہی اردو محفل کی طرف روانہ ہوگئے وجہ یہ تھی کہ اردو محفل پر جانا بھی کچھ کم ہو رہا تھا اور پھر محسن حجازی جو کہ محفل کی مسکراہٹ ہیں اُن کی تحریر میں ہی ایسی کشش ہے کہ ہم ایک چھلانگ میں وہاں تھے ہاں البتہ دوسری چھلانگ مار کر واپس آنا بھول گئے یہ بھی یقیناً بھائی جان کی تحریر کا کرشمہ ہے کہ وہیں کے ہو کر رہ گئے ۔

لیکن آج ہمیں آپ کی تحریر بھی واپس کھینچ لائی۔ ماشااللہ آپ بھی بہت خوب لکھتی ہیں۔ایسی ہلکی پھلکی شگفتہ نثر لکھنا ہر کسی کا کام نہیں ۔ سو سب کی طرح ہم بھی کہیں گے کہ لکھتی رہیے اور بلاگ کو سجاتی رہیے۔

ساتھ ساتھ خوش رہیے۔

 
At January 22, 2010 at 3:21 AM , Blogger sarapakistan said...

محمد احمد
اس میں معذرت والی کیا بات ہم تو ممنون ہیں کہ آپ کو اتنی لمبی چھلانگ لگانے کے بعد بھی ہمارا بلاگ یاد رہا بہت شکریہ ...بھائی جان کا لنک یہ کام بھی کر رہا ہے اوہو ...پھر تو سوچنا پڑے گا ...
تحریر کی پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ اور دعا کا بھی بہت شکریہ

 
At January 22, 2010 at 2:50 PM , Anonymous عمر احمد بنگش said...

آہ ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)

 
At March 8, 2010 at 10:46 AM , Anonymous DuFFeR - ڈفر said...

سن سلک کا تو کہیں ذکر ہی نہیں
:|

 
At March 16, 2012 at 9:37 AM , Blogger عادل بھیا said...

اِس میں کوئی شک نہیں کہ آپ واقعی ماشاءاللہ اچھا لکھ لیتی ہیں لیکن افسوس آپکے نہ لکھنے پر ہے۔ ہم آج بھی آپکی تحاریر کے تسلسل کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home