Thursday, April 16, 2015

یہ دبئی ہے ...دبئی میٹرو ٹرین

دبئی کے میٹرو اسٹیشن پر اگر ایک جوڑا ایسا نظر آئے جو کہ شوہر صاحب میٹرو ٹرین کا کارڈ بیگم صاحبہ کے لئے مشین میں پنچ کررہے ہیں اور بیگم صاحبہ شان بے نیازی سے اس الیکٹرونک دروازے سے گزر رہی ہیں تویہ یقینا ہم ہیں اور اس عمل کو آپ ہمارے   شوہرصاحب  کی خدمت گزار طبیعت ہر گز مت سمجھئےقصہ صرف اتنا ہے کہ ایک بار غلطی سے د وبارکارڈ پنچ کر بیٹھے اب ہمارے خیال سے دو بار سے بھی پیسے تو اتنے ہی کٹے ہوں گے کہ جتنے بنتے ہیں مگر ہمارے شیخ میاں جی ایسے معاملات میں رسک لینےکے ہر گز قائل نہیں سو وہ دن اور آج کا دن انہوں نے ہمارا کارڈ بھی خود ہی پنچ کیا۔
تو جناب سلیقہ میگ کے سلسلے "یہ دبئی ہے" کے تحت آج ہم آپ کو دبئی میٹرو کی سیر کروانےلگےہیں ۔۔۔۔۔
دبئی میٹروٹڑین  کو سمجھنے کے لئے یہاں رہنے والے تین مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ وہ ہوتا ہےجب آپ نئے نئے دبئی آتے ہیں اور ہر چیز یا تو آپ کو بہت زیادہ ایکسائٹڈ کررہی ہوتی ہےاور رات ایک ایک بجے تک بھی آپ کا بس نہیں چل رہا ہوتا ہے کس طرح دبئی کے کونے کونے کو اپنی میزبانی کا شرف بخشیں اور چپے چپے کی تصاویر کھینچ کر دوستو کو دیکھائیں کہ دیکھو تو ذرا ہم اور دبئی آپس میں کیسے جچ رہے ہیں  ایسے میں میٹرو ٹرین کو دیکھ کر بھی آپ واو واو کرتے ہیںح یا پھر آپ شاک یا درویشی کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے ،دنیا ہے،عارضی ہے،وغیرہ وغیرہ  تو ایسی صورت میں میٹرو ٹرین کو دیکھ کر بھی آپ سوچتے ہیں ٹھیک ہے سفر ہی تو کرنا ہے اور یہ زندگی بھی تو سفر ہی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔دوسرا مرحلہ تب آتا جب آپ کو کافی حد تک یقین آچکا ہوتا ہے کہ آپ دبئی آچکے ہیں اور یہاں بس بھی چکے ہیں ۔۔۔ایسے میں آپ کو میٹرو ٹرین کی سہولت کی درست طور پر سمجھ آنے لگتی ہے تو آپ کو میٹرو ٹرین سسٹم کی خوبیاں نظر آنے لگتی ہیں .میٹرو ٹرین ڈرائیور کے بغیر چلنے والی تیز رفتار ٹرین ہے اس کی دو لائنز گرین لائن اور ریڈ لائن ہے


جب آپ اسٹیشن پر پہنچے ہیں تو وہاں نصب مشین کے ذریعے اپنا نول کارڈ پنچ کرکے ٹرین کی آمد والے حصے میں پہنچتے ہیں ۔نول کارڈ کی چار اقسام ہییں ریڈ کارڈ ،شلور ،بلو ،اور گولڈ کارڈ،گولڈ کارڈ دوسرے دیگر کارڈز کی نسبت کچھ مہنگا ہوتا ہےیہ نول کارڈ ری چارج بھی ہوجاتے ہیں ۔ٹرین میں عورتوں اور بچوں کےلےمخصوص حصہ بھی ہے ۔میٹرو اسٹیشن اور ٹرین کے اندر اعلانات دو زبانوں میں ہوتے ہیں انگریزی اور عربی ۔ٹرین کے اندر کھانا پینا منع ہے حتی کہ اب چیونگم کھانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ ٹرین اسٹیشنز پر بنے مخصوص کیفے میں ہی جا کر اپ کچھ کھا پی سکتے ہیں ۔۔روزانہ آفس وغیرہ کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کے لئے میٹرو ٹرین بہت بڑی سہولت ہے ۔
ہاں تو ہم بتا رہے تھے کہ پھر جب دبئی آنے کے بعد آپ تیسرے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو میٹرو ٹرین کی خامیاں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں ، مثلاً بڑے بڑے اسٹیشنٓز پر چل چل کر تھکن بہت ہوجاتی ہے صبح اور شام چھٹی کے وقت رش اس قدر ہوجاتا ہے کہ تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں ہوتی ،اسٹیشن سے اآپ کی منزل تک کا فاصلہ بہت زیداہ ہوتا ہے اور بعض اسٹیشن پر تو منزل پر پہنچنے کے لئے بس یا ٹیکسی کا ملنا بہت مشکل ہوجاتا ہے آپ کو گھنٹوں کھڑا رہنا پڑتا ہے یا بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔ایسے میں آپ مقامی شیخوں کی جانب سے کئے گئے نظر نہ آنے والے استحصال کو کوستے ہیں ۔۔۔۔۔
ارے ہم بتانا بھول گئے کہ پھر ایک چوتھا مرحلہ بھی آتا ہےدبئی میں رہتے ہوئے جب آپ کو اپنی ذاتی سواری میسر آجاتی ہے اور آپ کو میٹرو ٹرین میں سفر کئے سالوں بیت جاتے ہیں ایسے میں اگر کوئی آپ سے میٹرو ٹرین سسٹم میں کسی کمی کا ذکر کرے تو ہم ہنس کر صرف اتنا ہی کہتے ہیں "او سانوں کی"
یہ رپورٹ آپ کی خدمت میں سلیقہ میگ کی جانب سے پیش کی گئی ہے ۔سلیقہ میگ کے سلسلہ "یہ دبئی ہے" کی مزید رپورٹس اور دلچسپ ارٹیکلز کے لئے ہمارے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں
https://www.youtube.com/channel/UCZCBlD6okfoN681XifVkTJA
اور ہمارے فیس بک پیچ کو بھی لائک کیجئے۔
https://www.facebook.com/saliqamagpage

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home