Wednesday, December 24, 2008

میڈٰیا

سمجھ نہیں آتی کہ بھلا ہاتھ میں بڑا سا مگ لیے اول فول بولتی خآ تون ،ورزش کے نام پر اچھلتی کودتی لڑکی اور خوش رہنے کے طریقوں پر مبنی گھنٹے بھر کا لیکچر جس کا ما حصل یہ ہو تا ہے کے خوش رہنے کے لیے ضروری ہے کہ خوش رہا جائے ناخوش نہ رہا جائےاور بس خوش رہا جائے۔۔بھلا یہ سب نوجوانوں پر منفی اثرات کیسے ڈال سکتا ہے۔۔۔۔
ہا ں مگر پھر بھی میڈیا ہمارے نوجوانوں پر منفی اثرات ڈال تو رہا ہے ان اثرات کو سمجھنے کے لیے ضڑوری ہے کہ پہلے ہم نوجوانوں کو سمجھیں ہمارے ہاں عموماً دو اقسام کے نوجوان پائے جاتے ہیں‌ایک وہ جو با لکل بھی فارغ نہیں اور دوسرے جو با لکل ہی فارغ ہیں۔۔
اب جو با لکل ہی فارّغ ہیں وہ اب اتنے بھی فارّغ نہیں‌ کہ مار ننگ شوز دہکھ پائیں اب نیند لینا بھی تو ان کے فرائض میں شامل ہے نا۔۔ یہ قسم عموماً سر شام سے رات گئے تک میڈیا کے زیر تسلط رہتے ہیں۔۔اور یوں‌ہی کو ئی اوٹ پٹانگ قسم کا میوؤیکل شو دیکھتے ہوئے ان پر انکشاف ہوتا ہے کے کوئی ہے جو ان کے جذ بات کو سمجھتا ہے اور انہیں ملکہ عالیہ کو منانے کے لیے 12 آنے کا پیکج دے رہا ہے ۔۔۔ارے ز بردست!‌
سو یہ "نرگسوں" میں پلے " زخًم خوردہ " شاہیں‌ منہ اندھیرے (ہعنی دن 12 بجے ہی، "را ہ رسم شہبازی "نبھانے کے لیے یہ پیکج خر یدنے نکل پڑ‌تے ہیں۔۔۔اور گلی کے کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر جی جان ایک کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب دوسری جانب نا راض بیٹھی ملکہ عالیہ بھی کوئی ایسے ہی فار غ نہیں بیٹھی ہو تیں‌۔۔۔ وہ میڈ یا سے پوری
ٹر یننگ لے رہی ہو تی ہیں‌۔۔۔ میڈیا انہیں بتا تا ہے کہ کیسے انہیں اپنے متوقع ظالم و جابر سسرال میں جا تے ہی ایک خؤ فنا ک بلا کا روپ دھار نا ہے یا پھر یہ کہ بے وقوفی کی حد تک معصؤ میت سے زندگی کے سنجیدگی طلب
مسا ئل سے نبرد آزما ہو نا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جو نوجوان زندگی میں لو میرج کے علاوہ بھی کچھ کر نا چا ہتے ہیں ۔۔۔اور زندگی میں بیت کچھ سیکھنا اور آگے بڑھنا چا ہتے ہیں ،ان کے لیے میڈیا کے پاس کچھ بھی نہیں۔۔۔کیر ئیر کونسلنگ کے پرو گرام آٹے میں نمک سے بھی کم۔۔میڈیا نہیں بتا تا کے آجکل کون کونسی فیلڈ ز میں کیا کیا موا قع ہیں ۔۔۔۔ کوئی فا صٌلاتی تعلیم کا پروگرام نہیں۔۔۔کوئی ادب ،تمیز کی بات نہیں۔۔۔۔میڈیا کو صرف اور صرف آرٹ اور کلچر کی بڑھوتی کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے اور کلچر بھی وہ جس سے دوری کی بنا پر اس مملکت کی بنیاد رکھی گئی۔۔۔۔آج اسکو اپنا کہلوانے کے لیے میڈیا دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
طاوس و رباب کو اولیت دینے والا میڈٰیا معا شرے مین اپنی ذمہ داری کو سمجھ ہی نہیں پا یا ۔۔۔۔ مذ ہبی پروگراموں میں بھی کردار کے غازیوں کی بجائے الفاظ کے جا دوگروں کا میلہ یوں لگتا ہے کہ ایک با شعور نوجوان خؤد کو مسلمان کہلوانے میں عار محسوس کر نے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اب بات رہی ہماری ذمہ داری کی تو ۔۔۔ نو جواں میڈیا‌کے منفی اثرات دیں سے دوری کی بنا پر لے رہے ہیں۔۔۔اس کے لیے مثال مغرب سے لی جا تی ہے کہ وہاں مذ ہب کو دنیاوی معا ملا ت سے ا لگ کر نے کی بنا پر ہی ترقی ہوئی ہے ،مگر اس دوری کے معاشرے پر اثرات کا جائزہ بہی تو لیا جائے۔۔۔۔۔۔مذ ہب کچھ بھی نہیں ہے صرف انسان اور حیوان میں پہچان کا ذریعہ اور انسان کو مہذ ب اور پر امن معا شرہ مہیا کر نے کا ضا من ۔۔۔۔۔
ریسرچ ،علم کے حصول اور ایجادات سے مذ ہب نے کب منع کیا ہے۔۔۔۔صر ف دین سے قر بت ہی میڈیا کے پھیلا ئے
ہوئے منفی اثرات کا واحد حل ہے۔۔۔
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ جیسے انہوں نے اپنے بچے کو پاوں پاوں چلنا سکھا یا۔۔۔ نو جوانی میں ایک بر پھر اس
آُ پ کی ضرورت ہے ۔۔۔وہ چلتے ہوئے لڑ‌کھڑاے گا۔۔۔شاید گر بھی پڑے۔۔۔اسے سہارا دیجیے۔۔پرائیویسی اور شخصی آزادی کے نام پر اسے اس بھیڑ میں تنہا مت چھو ڑیں۔۔۔۔۔
سارہ پاکستان۔

8 Comments:

At December 31, 2008 at 3:47 AM , Anonymous ڈفر said...

بہت بہتب ہت اچھے
دل خوش ہ گیا آپکا بلاگ پڑھ کر
آپ کی اگلی تحریر کا انتظار رہے گا
آپ فیڈ ایگریگیٹر جواین کریں پلیز
زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھ سکیں گے آپکی تحریروں کو
آپکا بلاگ پڑھ کر مزہ ا جاتا ہے

 
At December 31, 2008 at 9:10 PM , Blogger sarapakistan said...

ڈفر
بہت بہت شکریہ۔۔۔وینس جوائن کرلیا ہے ۔۔۔سیارہ پر فارم بھرا ہے دیکھیں‌کب شنوائی ہوتی ہے۔۔۔

 
At January 1, 2009 at 12:24 AM , Anonymous ساجداقبال said...

واہ سارہ آپ نے تو اچھا خاصا بلاگ شروع کر کے اچھی خاصی تحریریں بھی لکھ لیں۔ میں سمجھا ابھی تک سیٹ اپ کے چکروں میں ہیں۔ مبارکباد قبول فرمائیں اور باقاعدگی سے لکھیے گا۔

 
At January 1, 2009 at 3:03 AM , Blogger sarapakistan said...

بہت شکریہ ساجد بھائی ۔۔آپ نے دیکھا کتنی تیز ہوں میں۔۔۔ہی ہی ہی ۔۔۔حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ ۔۔۔باقاعدگی سے لکھنے کے لیے آپ کی دعائیں درکار ہیں۔۔۔

 
At January 2, 2009 at 7:37 AM , Anonymous زین said...

السلام علیکم
بہت خوب۔۔۔ بہترین بلاگ بنایا ہے ۔
اب یہ تسلسل کے ساتھ لکھھتے رہنا اور اردو محفل میں اپنے دستخط میں اپنی نئے تحریر کا ربط بھی دیا کریں ۔

 
At January 2, 2009 at 9:14 PM , Blogger sarapakistan said...

زین بھائی
بہت شکریہ ۔۔۔ربط دستخط پر آپ کی توجہ کے طالب رہیں گے۔۔۔۔۔۔بہت شکریہ

 
At January 4, 2009 at 10:49 PM , Anonymous ابوشامل said...

یہ تحریر تو ہمارا ووٹ بھی سمیٹ چکی ہے اس لیے اس کے معیار کے تو ہم پہلے سے معترف ہیں۔
البتہ ایک غلطی کی نشاندہی ضرور کرنا چاہیں گے کہ ایک جگہ آپ نے "نرگسوں میں پلے زخم خوردہ شاہین" لکھا ہے اس میں "نرگسوں" کی جگہ "کرگسوں" کردیں۔ میرے خیال میں آپ کے اس جملے کی اصل علامہ اقبال کا یہ شعر ہے:

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی

 
At January 4, 2009 at 11:55 PM , Blogger sarapakistan said...

آپ کی حوصلہ افزائی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تو الفاظ‌بھی نہیں میرے پاس۔۔بہت شکریہ
آپ نے بلکل صحیح کہا اقبال کا یہی شعر میرے ذہن میں تھا
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی
مگر" کرگسوں" کو" نرگسوں "میں‌نے طنزاً کیا ہے اگر اس طرح‌اقبال کی شان میں گستاخی کا ارتکاب ہوتا ہے تو میں ضرور اصل لفظ کو لکھ دیتی ہوں ۔۔۔بتایے گا ضرور؟؟؟

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home