Friday, January 2, 2009

گناہ کا لطف

دو غلط فہمیاں‌ نہ جانے ہمیں‌کہاں سے کہاں‌لے جائیں ۔۔۔منزل کے بہت قریب ہو تے ہوئے بھی ہم کہیں‌بہت دور ہی نہ ہوجائیں ۔۔۔پہلی خوش فہمی جس میں‌ہم میں‌سے ایک واضح اکثریت مبتلا ہے کہ ہم وہ امت ہیں کہ ہماری بخشش ہو چکی ہم اپنے کردہ گناہوں کے لیے بہت تھوڑے عرصے کےلیے دوزخ میں جائیں‌گے اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت ہمارا نصیب ٹھرے گی۔۔۔۔افسوس ہمارا دھیان کبھی اس امت کی طرف نہیں‌گیا جو ہم سے پہلے ایسے ہی دعوے کی مرتکب ہوئی اور قرآن میں ان سے بیزاری اور عذاب کی وعید کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔
ذرا سوچیے تو ایک لمحے کے لیے فرض ‌کیجیے کہ آپ پچھلی امت کا ایک فرد ہیں اور میں‌اس امت میں سے ہوں۔۔۔۔
آپ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں‌اور میں۔۔۔۔گناہوں‌کے بارے میں‌لاپرواہی کا شکار ہوں کیونکہ میری تو بہرحال بخشش ہو ہی جانی ہے۔۔۔۔۔
اب ہو تا یہ ہے کہ ہم میدان حشر میں‌کھڑے ہیں‌۔۔۔آج یوم حساب ہے۔۔۔یہی وہ دن ہے جب ہر کسی کو پورا پورا انصاف ملے گا۔۔۔مگر یہ کیا! جب آپ کے اعمال کو تولا گیا تو کچھ گناہ زیادہ ہی ہوگئے۔۔اور آپ دوزخ میں۔۔میں چونکہ ایک خاص امت سے تھی لہذا کچھ دیر دوزخ‌اور پھر جنت۔۔۔۔۔
کیا انصاف کے دن اس نا انصافی پر آپ احتجاج نہیں‌ کریں گے۔۔۔بھلا جو عدالت لگی ہی انصاف کے لیے،وہاں سے ایسی بےانصافی کی آس ہم کیوں لگائے بیٹھے ہیں۔۔۔۔
دوسری خوش فہمی جو ہم نے اپنی کم فہمی کی بناء پر خود پر طاری کی ہوئی ہے،اور ہر دور میں‌نوجوان نسل اسکا خاص شکار رہی ہے وہ یہ کہ "گناہ کا کوئی منفی اثر لیے بغیر اسکا لطف اٹھایا جاسکتا ہے"حیرت ہے بھئی!
تھوڑا پیچھے جائیے بلکہ کچھ زیادہ پیچھے جائیے تو وہ دور بھی تھا جب متوسط گھرانوں اور خاص کر مذہبی گھرانوں میں‌ریڈیو کے خلاف مزاحمت رہی۔۔۔"گناہ کا کوئی منفی اثر لیے بغیر اسکا لطف اٹھانے" کے نظریے کے پیروکار نوجوانوں نے بغاوت کی۔۔۔۔اور آہستہ آہستہ وہ مزاحمت دم توڑ گئی۔پھر یہی کہانی ٹٰی وی ۔وی سی آر۔ڈش اور پھر کیبل کی آمد پر دہرائی گئی۔۔۔۔۔۔دقیانوسی لوگوں کوبھی آہستہ آہستہ ان چیزوں کے فوائد گنوا کر قائل کر لیا گیا۔۔۔۔۔۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہو تی ۔۔۔کہانی تو یہاں‌سے شروع ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
مغرب میں "پاور فل افیکٹ آف میڈ یا" پر ہونے والی ریسرچز کے نتائج سے بے خبر ہم "مشرقی"لوگ گناہ کا لطف اٹھاتے رہے اسکا کوئی منفی اثر لیے بغیر۔۔۔۔
ان کی ریسرچز کے نتائج "بند ڈبے سے باہر آنے لگے اور ہمارانظریہ ڈبے میں بند۔۔۔۔
ڈبے پر نظر آنے والے بے لگام کردار ہمارے ارد گرد بھی چلنے پھرنے لگ گئے۔۔۔ان کی "باہم گفتگو کا مسلئہ "چھوٹی ڈبیا"نے حل کردیا۔۔۔۔۔۔
اب ذرا ان معاشروں پر ایک نگاہ ڈالیے جہاں اس نظریے کے" پیروکار " اپنے معاشرے کو اس انتہا پر لے گئے ۔۔۔کہ وہاں لوگ اپنی ذات اور شناخت کے بارے میں‌خود ایک سوال بن کر رہ گئے۔۔۔۔
ذرا سوچیے کہ محض" گناہ کے لطف "کی ہم اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ہم اسی رفتار سے چلتے رہے تو ایک دہائی سے بھی کم کا عرصہ رہ جائے گا۔۔۔اپنی ذات کے بارے میں ایک سوالیہ نشان بننے میں۔۔۔۔۔۔
اب کیا کیا جائے۔۔۔۔؟؟؟‌کیا ہم اپنے ٹی وی ،پلئیرز وغیرہ گلیوں میں لا کر توڑ ڈالیں۔۔۔۔اور دنیا کے سامنے خود کو ایک تماشا بنا ڈالیں۔۔ہر گز نہیں۔۔۔ہمیں‌پہلی اور آخری تبدیلی اپنی سوچ میں لانا ہو گی۔۔۔۔۔
گناہ کو گناہ سمجھ کر کیجیے۔۔۔ اس کے بارے دلائل اکھٹے کرنے کی کوشش کی بجائے ۔۔۔۔۔۔یہ طرز فکر آپ کو ایک نہ ایک دن گناہ سے بیزاری پر ضرور مائل کر دے گا۔۔۔۔۔

24 Comments:

At January 2, 2009 at 7:26 AM , Anonymous خاور بلال said...

جسے دیکھیے وہ اپنی غلط کاریوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے جواز تراشنے پر لگا ہے۔ اس دور میں تو گناہ کو گناہ سمجھ کر کرنا بھی نیکی معلوم ہوتا ہے۔

 
At January 3, 2009 at 3:27 AM , Anonymous افتخار اجمل بھوپال said...

آپ کو نیا بلاگ شروع کرنا مبارک ہو
آپ نے اس مضمون کی ابتداء تو درست کی لیکن انتہاء کرتے ہوئے جو بات آپ کے دل میں تھی اُسے صحیح طور بیان نہیں کر سکیں ۔
کوئی بھی فعل بار بار کرنے سے آدمی اُس کا عادی ہو جاتا ہے اور خواہ وہ آدمی اُس فعل کو کتنا ہی بُرا سمجھے اُسے چھوڑ نہیں سکتا ۔ جو طریقہ آپ نے بتایا ہے اس کا اطلاق صرف اُس وقت ہو سکتا ہے جب کسی سے زبردستی وہ فعل کرایا جائے جو گناہ ہے ۔
میں ٹی وی ۔ کمپیوٹر ۔ ریڈیو وی سی آر ۔ وغیرہ توڑنے کے حق میں نہیں بلکہ ان کے مفید استعمال کے حق میں ہوں ۔ کسی بھی چیز کو اس کا استعمال اچھا یا بُرا بناتا ہے ۔
آپ ماس کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں میں نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر مارچ 1975ء میں ایک تحقیقی مکالہلکھا تھا جس کا ایک باب کمیونیکیشن پر ہے ۔ مندرجہ ذیل ویب سائیٹ پر جا کر
http://iabhopal.wordpress.com/
بلاگ کے عنوان کے نیچے لکھے مندرجہ ذیل چھوٹے عنوانات پر باری باری کلِک کر کے پڑھ سکتی ہیں
6.TRIANGLE OF SUPERVISION
6A.COMMUNICATION

 
At January 3, 2009 at 7:30 AM , Blogger sarapakistan said...

افتخار اجمل بھوپال
سر بہت بہت شکریہ ۔۔میری ناقص تحریر کو پڑھنے اور اس پر اپنی قیمتی رائے دینے کا۔۔سر آپ نے بالکل درست کہا کہ "کوئی بھی فعل بار بار کرنے سے آدمی اُس کا عادی ہو جاتا ہے اور خواہ وہ آدمی اُس فعل کو کتنا ہی بُرا سمجھے اُسے چھوڑ نہیں سکتا"سر حآلات وہاں آچکے ہیں‌کہ ہم گناہ کہ اس حد تک عادی ہوچکے ہیں‌کہ اب چونکہ اسے چھوڑ نہیں‌سکتےلہذا اس کے حق میں‌ مذہبی رہنماوں سے فتوے لینے چل پڑے ہیں۔۔سر ایسے حالات میں درجہ بدرجہ کسی" چیز"‌کو مکروہ بتادینے کی حکمت عملی بھی تو ہمارے سامنے ہے۔۔۔
اس موضوع پر آئندہ کچھ مزید بھی لکھنا چاہتی ہوں۔۔۔امید کرتی ہں آپ آئندہ بھی اپنے قیمتی وقت میں‌سے کچھ وقت میری ناقص تحریر کے لیے نکالیں‌گے۔۔۔۔اور سر لنکس کا بہت بہت شکریہ امید ہے آئندہ بھی اپنے علم کے وسیع خزانے سے کچھ نوازتے رہیں‌گے۔۔۔۔۔

 
At January 3, 2009 at 7:33 AM , Blogger sarapakistan said...

خاور بلال
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔

 
At January 3, 2009 at 10:07 AM , Anonymous ڈفر said...

مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ یہ سب مجھے سنانے کو لکھا ہے؟

 
At January 3, 2009 at 8:09 PM , Blogger FM said...

lazzat e gunah ki khatir jis ney haar di thi jannat
aakhir meri ragoon mein bhi tau usi Aaadam ka khoon hey

 
At January 3, 2009 at 8:21 PM , Anonymous Mawra said...

بہت خوب سارہ۔

 
At January 4, 2009 at 12:30 AM , Blogger Muhammad said...

بہت اچھی تحریر ہے۔ ہمیں گناہوں کی اہمیت کا جتلا دیا آپ نے۔بھئی گناہ کو ہم نے اتنا کم اہمیت جانا ہوا ہے کہ اب کوئی گناہ کرتے ہوئے ہمیں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔
یہ مرض اسی طرح ختم ہو سکتا ہے کہ جب آپ جیسے لوگ گناہوں کی اہمیت جتلا دیں اور بیان کر دیں۔بہت شکریہ

 
At January 4, 2009 at 10:43 PM , Anonymous ابوشامل said...

بہت خوب سارہ۔ بہت خوب تحریر ہے۔
یہی بات ہمارے ایک محترم استاد سمجھایا کرتے تھے کہ جس دن تم میں گناہ کو گناہ سمجھ کر کرنے کا نظریہ سما گیا اس دن کے بعد تمہیں اس سے تائب ہونے کی توفیق بھی مل سکتی ہے۔


ویسے ایک ہدایت ہے کہ آپ اپنے بلاگ کے علاوہ جہاں بھی اپنی تحریر پیش کریں وہاں نصف سے زیادہ نہ لکھیں اور بقیہ پڑھنے کے لیے اپنے بلاگ کا لنک دے دیں۔ کیونکہ آپ کی تحریر اصلاً بلاگ کی ہے اور تبصرے بھی زیادہ بلاگ پر ہی ہونے چاہئیں۔

 
At January 5, 2009 at 2:17 AM , Blogger sarapakistan said...

فہد بھائی بہت بہت شکریہ۔۔۔
آئندہ اپنی تحریر بلاگ پر ہی پوسٹ کروں گی۔باقی جگہ لنک دے دوں گی۔۔۔۔
بہت شکریہ۔۔۔

 
At January 5, 2009 at 2:33 AM , Blogger sarapakistan said...

ڈفر۔۔ بہت شکریہ۔
ایف ایم۔۔بہت شکریہ۔
ماورا جی ۔۔بہت شکریہ
نعمان بھائی۔۔۔بہت شکریہ۔

 
At January 5, 2009 at 3:21 AM , Anonymous عمار ابنِ ضیاء said...

ماشاء اللہ، سپر ہٹ جارہی ہیں۔

 
At January 5, 2009 at 8:31 AM , Anonymous DuFFeR said...

بہت شکریہ؟ :O ۔
یعنی مجھے ہی سنایا جا رہا تھا

 
At January 5, 2009 at 9:15 AM , Anonymous BiLLU said...

بہت خوب

 
At January 5, 2009 at 7:53 PM , Blogger sarapakistan said...

ڈفر
نہیں‌ شکریہ تو اس دھیان سے سننے کا۔۔۔۔
بلو۔۔
بہت شکریہ

 
At January 6, 2009 at 5:19 AM , Blogger sarapakistan said...

عمار بھائی بہت بہت شکریہ

 
At January 6, 2009 at 5:30 AM , Blogger Mohsin Hijazee said...

بہت اچھے۔
بہترین۔
ہم خوش ہوئے۔

 
At January 12, 2009 at 11:40 PM , Anonymous ابوشامل said...

آپ نے اپنے بلاگ سے کچھ تحریری حذف (ڈیلیٹ) کی ہیں کیا؟ مجھے آج یہاں آ کر کچھ ایسا لگا ہے کہ چند تحریریں غائب ہیں۔

 
At January 13, 2009 at 1:31 AM , Blogger sarapakistan said...

فہد بھائی ۔۔میں نے تو کوئی تحریر ڈٰیلیٹ نہیں کی۔۔۔۔اس بلاگ پر تو فی الحال اتنا ہی لکھا ہے۔۔۔۔
یہ بلاگ شروع کرنے سے پہلے کچھ یہاں‌لکھا تھا
http://artandarticle.synthasite.com
گر یہ تو اب ذرا پرانی بات ہوگئی۔۔۔۔بلاگ
Archive
میں ہو سکتا ہے کے ہوں میری کوئی ایسی تحریر جو آپ کے خیال میں‌یہاں‌نہیں ہے؟؟؟

 
At January 14, 2009 at 5:18 AM , Blogger عین لام میم said...

ماشاءاللہ بہت خوب لکھتی ہیں ٓپ۔ ۔
حاضری ہوتی رہے گی یہاں انشاءاللہ۔ ۔

 
At February 23, 2009 at 7:09 AM , Anonymous sadia saher said...

sara aap ka blog parha bohat achii soch hai welldone

 
At April 24, 2009 at 6:50 AM , Blogger rafaqat said...

بہت اچھی باتیں ہیں۔ عمل کرنا چاہیے۔

 
At March 29, 2010 at 11:39 AM , Anonymous محب علوی said...

بہت عمدہ تحریر ہے اور کم ہی لوگ ہوں گے جو اس پر اختلاف کر سکیں گے کہ گناہ کو کم از کم گناہ سمجھنا چاہیے کیونکہ یہی چیز آپ کے اندر کشمکش کو جاری رکھتی ہے ورنہ کشمکمش ہی ختم ہو جائے تو پھر گناہ میں کیا چیز حائل رہ جاتی ہے

 
At September 6, 2010 at 1:08 AM , Blogger محمد احمد said...

بہت خوب! خوب احساس دلایا ہے آپ نے۔

محب علوی کے تبصرے سی اس تحریر کا مرکزی خیال حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خوش رہیے۔

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home