Friday, January 16, 2009

کاسمیٹکس خوشیوں میں دلہن کہیں کھوگئی

زمانہ تھا کبھی وہ بھی جب دلہن کا گھونگھٹ ہوا کرتا تھا۔۔۔۔۔دولہا خود کو خوش قسمت سمجھتا تھا کہ یہ گھونگھٹ‌ اسے ہی اٹھانا ہے۔۔۔۔بہت مسرور۔۔۔۔مگر اب یہ خوش قسمتی سب سے پہلے جس شخص کے حصے میں آتی ہے وہ ہے فوٹوگرافر۔۔جی ہاں پروفیشنل فوٹو گرافر۔۔۔۔
دلہن پر کم از کم 3سے 6 مزدوروں‌ کی مہینے بھر کی کمائی کے برابر سنگھار سے سب سے پہلے محظوظ ہونے کی سعادت کے لیے فوٹو گرافر پارلر میں‌ہی موجود ہوتا ہے۔۔۔۔
دوسری جانب بارات دلہن کے ہال پہنچ کر دلہن کا انتظار کررہی ہے۔۔۔۔۔ہال میں‌چاہے خواتین و حضرات کی نشستوں کا الگ الگ انتظام موجود ہو پھر بھی فوٹؤگرافرز،کیمرہ مینز،سروسز والے اور پھر دولہا دلہن کے ساتھ تصویر اتروانے کے خؤاہشمند حضرات " محرموں" میں ہی شمار کرلیے جاتے ہیں۔۔۔۔تاآنکہ ہر لحاظ سے سہولت رہے ۔۔۔۔۔۔اور یہ سہولت بوقت ضرورت کام بھی آسکے۔۔۔۔ویسے پیچھے نہ جانے کونسے شہزادے بچ جاتے ہیں۔
دلہن کا انتظارطویل ہوتا جاتا ہے۔۔۔۔بلآخر "دلہن آگئی" دلہن آگئی" کا شور مچتا ہے اور بارات دلہن کے استقبال کے لیے کھڑی ہوجاتی ہے۔۔۔۔مگر جناب ابھی انتظار کی گھڑیاں ختم نہیں ہوئیں۔۔۔ہال کے داخلی دروازے پر ایک ہجوم ہے۔۔دلہن کی جانب سے فوٹوگرافر،دلہا کی جانب سے فوٹوگرافر،دلہن کی جانب سے مووی کیمرہ مین ،دلہا کی جانب سے مووی کیمرہ مین،پھر ان کے اسسٹنٹس اور ان کے کہیں پیچھے کھڑی بے بس بارات ایڑیاں اچکا اچکا کر دلہن کے دیدار کی ناکام کوشش میں مصروف۔۔۔کوئی بیس منٹ دلہن کی ہال میں انٹری کی کوریج کی جاتی ہے اور بلآخر کیمرہ مینز کی ٹٰیم کچھ دیر کو سائیڈ‌ پر ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔
دلہن کا اعتماد اور اسکی کیمرہ مینز خاص کر اپنی طرف والی فوٹوگرافر سے انڈر سٹٰنڈنگ دیدنی ہو تی ہے کہ یہ ہی وہ شخص ہے جو سنگھار کے بعد سب سے پہلے اسکے دیدار کا حقدار ٹہرا تھا۔۔۔۔۔۔۔
دلہن کی آمد پر دلہن کی سہیلیوں میں بے چینی کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔۔۔۔یار!‌ یہ ہم کسی اور ہال میں تو نہیں آگئے۔۔۔۔کیوں کیا ہوا! بھوک سے نڈھال ایک مری ہوئی آواز پوچھتی ہے۔۔۔۔یار یہ اپنی پنکی تو نہیں ہے۔۔۔۔وہی ہوگی۔۔۔یہ کھانا کب لگے گا میرا تو بھوک سے دم نکل رہا ہے۔۔۔قریب سے گزرتی پنکی کی امی جان کو تصدیق کے لیے پکڑ لیا جاتا ہے۔۔۔۔آنٹی یہ پنکی ہی ہے نا!؟۔۔۔ہاں ہاں بیٹا کیا ہوگیا ہے وہی ہے۔۔۔آنٹی کی کھسیانی آواز آتی ہے۔۔۔خیر سے بہت خوبصورت ہے میری بیٹی بس ذرا ناک کا تھوڑا مسلئہ تھا دیکھا میک اپ سے کیسا سیٹ ہو گیا"جی جناب اور کچھ آپ کی ناک کا بھی مسلئہ تھا وہ بھی اس خرچے سے کافی حد تک سیٹ ہو گیا ہوگا"
میک اپ کی تہوں کے نیچے اپنے کرب چھپائے چہرے۔۔۔۔اپنے حالات سے لڑتے لوگ۔۔۔۔کاسمیٹٰکس فنکشن میں خؤش نظر آنےکی بہترین اداکاری۔۔۔۔۔ان کاسمیٹکس خوشیوں میں دلہن کہیں کھوگئی۔۔۔۔
یہ تو تصویر کا ایک ادھورا رخ ہے اسی تصویر کے اسی رخ کا دوسرا حصہ دیکھیے۔۔۔۔
ہزاروں کا سنگھار۔۔۔۔۔لاکھوں کا جہیز۔۔۔۔لاکھوں کی بری۔۔۔۔ہزاروں کا شادی کے فنکشن کا خرچہ۔۔۔۔۔
ان کے لیے افورڈ‌ کرنا تو حق بجانب بنتا ہے جن کے پاس آمدنی کے" بہترین ذرائع" ًموجود ہیں۔۔۔وہ نہ خرچہ کریں تو انکاپیسہ سرکولیشن میں نہیں آئے گا۔۔۔۔اور داغے جانے کے لیے مہروں کی کوالٹٰی اعلی سے اعلی تر ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔
مگر ہزاروں میں کمانے والے لاکھوں‌کے اس خرچے کوکیسے افورڈ‌کریں اور کیوں افورڈ کریں؟؟۔۔۔۔۔
یہ بھی المیہ ہے کہ جس مقدس رشتے کی خوشی میں اہتمام خوب سے خوب تر کیا جاتا ہے اس کے ٹوٹنے کی شرح بھی معاشرے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
فلرٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد شاید اس سے پہلے کبھی اتنی رہی ہو۔۔۔جتنی اس کاسمیٹیکس خوشیوں کے دور میں ہے۔۔۔۔۔
ان کاسمیٹیکس خوشیوں نے سچی خوشیوں کو بہت مہنگا بنا دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

29 Comments:

At January 16, 2009 at 6:43 AM , Anonymous Rida said...

زبردست!!مزہ آگیا۔۔۔بہت خوب
اور یہ سہولت بوقت ضرورت کام بھی آسکے۔۔۔۔کیا گہری بات کی ہے مزہ آگیا۔
ویسے پیچھے نہ جانے کونسے شہزادے بچ جاتے ہیں(جو محرم ہوتے ہیں(
یہ محرم نا محرم کا کیا سلسلہ ہے بھئی ہم نے تو پڑھا تھا سب انسان برابر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
میرا تو خیال ہے ان بے مقصد خرچوں‌کی بجائے کسی غریب کو کوئی چھوٹا سا کاروبار کروادیا جائے شاید ہمارے ملک سے ایک غریب ختم ہو جائے اور اللہ کی ہم پر رحمت ہوجائے۔۔۔

 
At January 16, 2009 at 8:43 AM , Anonymous DuFFeR said...

پنجابی زمیندار بھی ایک ٹرم ہوتی ہے اگر آپ نے سنی ہو تو، بس اسی زمیندار ی کے جراثیم پائے جاتے ہیں ہماری قوم میں۔ دکھاوا نہ ہو تو مزہ نہیں آتا۔ پتا نہیں ابھی ایک دو دن پہلے کس بلاگ پر تحریر آئی تھی کہ ”لوگ کیا کہیں گے؟“ انہوں نے بھی بڑا اچھا لکھا تھا اس پر۔
اس خاص فنکشن کی تفصیل نے تحریر کو بڑی عمدگی بخشی ہے۔ بہت مزے کی اور اچھی پوسٹ ہے۔
اجازت ہے تو ردا صاحبہ، پہلے کمنٹ والی، کو کہنا ہے کہ انسان برابر ہوتے ہیں انسانیت کے حوالے سے عورت کے لئے محرم نا محرم کا ٹکٹ تو صرف مردوں پر لگتا ہے۔

 
At January 16, 2009 at 8:44 AM , Anonymous میرا پاکستان said...

آپ کی تحریر تو ایک منجھے لکھاری کا نمونہ پیش کر رہی ہے۔ پڑھ کر واقعی اچھا لگا۔

 
At January 16, 2009 at 9:06 AM , Anonymous زین said...

بہت اچھا لکھا ہے ۔
مجھے یہاں تبصرے لکھنے میں مشکل پیش آرہی ہے ۔

 
At January 16, 2009 at 9:40 AM , Anonymous Rashid Kamran said...

بہترین تحریر ہے بہت پسند آئی۔
بس تھوڑے دنوں کی بات ہے پھر ایک دو گانا بھی شادی کا حصہ بن جائے گا پھر لوگ دلہن سے ناچنے کی فرمائش بھی کیا کریں گے اور دولہا کے لیے موسیقی کا کوئی آلہ بجانا لازمی ٹہرے گا۔۔

 
At January 16, 2009 at 10:26 AM , Blogger talib said...

assalam alaikum, aap deen-dunya ki taraf aayin, shukriya.

aap khoob likh rahi hain.zoreqalam aur zyada!
urdu font blog par? hamne to bahut koshish ki nakaam raha.

 
At January 16, 2009 at 11:23 AM , Blogger شعیب صفدر said...

بھائی کیا درست منظر کشی آغاز میں اور کیا اختتام میں فلسفہ بہت خوب!!!!
ویسے میک اپ بھی تو پردے کا کام کرتا ہے ناں!!! کہ دونوں چہرہ چھپانے کے کام آتے ہیں!!

 
At January 17, 2009 at 4:49 AM , Anonymous ساجداقبال said...

السلام علیکم
کیا خوب نقشہ کھینچا ہے آپ نے۔ ایسی ہی ایک شادی میں پچھلے سال شرکت کرنے کا اتفاق ہوا، بڑی حیرت ہوئی کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ دلہن دلہا کی بیگم کم اور فوٹوگرافر کی زیادہ نظر آ رہی تھیں۔
ہمیں تو کھانا وقت پر ملا، شکر کیا۔

 
At January 17, 2009 at 9:26 PM , Anonymous افتخار اجمل بھوپال said...

آپ کا یہ عمل یعنی یہ تحریر قابلِ ستائش ہے ۔ سب سے اہم کہ آپ نے لڑکی یا عورت ہوتے ہوئے یہ سب کچھ لکھ دیا ۔ کیا کوئی طوفان اُٹھنے والا ہے یا ۔ بقول شخصے ۔ قیامت قریب ہے ؟
یہ لکھا ہے تو اس کی تبلیغ بھی شروع کیجئے ۔ اس سلسلہ میں میری دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی ۔
اس غیر اسلامی ۔ سماج دُشمن اور غیراخلاقی طرزِ عمل کو اپنانے والے لوگ اپنے آپ کو اعلٰی تعلیم یافتہ ۔ بلند اخلاق ۔ ترقی یافتہ اور مجدد مسلمان سمجھتے ہیں ۔ اس سے بڑھ کر خودفریبی اور کیا ہو سکتی ہے ؟
ان سب لغویات کی 80 فیصد ذمہ دار عورت ہے اور 20 فیصد ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے

 
At January 19, 2009 at 1:55 AM , Anonymous Billu said...

سارہ جی آپ نے بہت اچھا لکھا ہے لیکن سب سے زیادہ زپردست بات راشد کامران صاحب نے کی دوگانا والی، مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے ۔

 
At January 19, 2009 at 11:47 PM , Blogger عین لام میم said...

salaam.
boht achha likha hai ap nay hmesha ki trah..
main ap ki aksar baaton se ittefaq krta hon....
likhti rahiye.. hm parhte rahen ge..

 
At January 20, 2009 at 12:09 PM , Blogger Usama Zia said...

بہت زبردست لکھا ہے۔ آپ کو تواخبار رپورٹر ہونا چاہیے۔

 
At January 21, 2009 at 3:21 AM , Anonymous ابوشامل said...

ماشآ اللہ۔ پیغام بھی خوب ہے اور انداز تحریر بھی۔
بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھروں اور قریبی رشتہ داروں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کریں۔ بارش کا پہلا قطرہ تو بنیں۔ بہت کم ایسی شادیاں دیکھنے کو ملیں جہاں جاکر حقیقی خوشی محسوس ہوئی ہو۔

 
At January 24, 2009 at 8:43 AM , Anonymous فیصل said...

بہت خوب لکھا ہے۔
شکر ہے میں نے تو اپنی بیگم کو صبح اٹھ کر پہچان لیا تھا۔
ہی ہی ہی

 
At January 27, 2009 at 3:03 AM , Anonymous حسن مغل said...

بہت عمدہ

 
At January 27, 2009 at 6:39 AM , Blogger جہانزیب said...

بہت عمدہ تحریر ہے، اس کے بارے میں مجھے بھی کچھ لکھنا ہے، لیکن وہ ذرا ہٹ کر ہے۔

 
At January 29, 2009 at 6:42 AM , Anonymous Billu said...

kia baat hai Sarah jee aap ne is tehreer ke baad kuch likha hi nahin ???

 
At January 29, 2009 at 11:34 PM , Blogger sarapakistan said...

پیپرز ہونے والے ہیں‌ بس اس لیے کچھ مصروفیت ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔جوابات تاخٰٰیر سے دینے پر معذرت خؤاہ ہوں

 
At January 29, 2009 at 11:37 PM , Blogger sarapakistan said...

ردا
بہت بہت شکریہ
ڈٍفر
۔۔۔۔بہت بہت شکریہ ۔۔ردا نے وہ بات طنزا کہی ہے ۔۔۔اور واقعی ساری بات صرف دکھاوے کی ہی ہے

 
At January 29, 2009 at 11:39 PM , Blogger sarapakistan said...

میرا پاکستان
بہت بہت شکریہ ۔۔۔ذرہ نوازی ہے آپ کی ۔۔۔۔
زین
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔آپ رومن یا انگلش استعمال کرلیا کریں تو بھی مجھے اچھا لگے گا۔۔۔

 
At January 29, 2009 at 11:44 PM , Blogger sarapakistan said...

راشد کامران
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔دلہن کے ڈآنس کا رواج تو نجی فحفلوں میں ان ہونے لگا ہے۔۔۔۔خدا خیر کرے۔۔۔۔۔
طالب۔۔۔
بہت بہت شکریہ ۔۔۔میں‌دین و دنیا پر آچکی ہوں بہت اچھا بلاگ ہے آپ کا ۔۔۔چھوٹا سا کمنٹ بھی کیا تھا چیٹ بکس میں۔۔۔۔اردو ٹیمپلیٹ نبیل بھائی کی عنایت ہے ۔۔۔عمار بھائی نے بھی بہت رہنمائی کی۔۔۔۔آپ کو اردو محفل سے گائیڈ‌ مل سکتی ہے۔۔۔۔۔دعا کے لیے بہت شکریہ۔۔۔۔

 
At January 29, 2009 at 11:49 PM , Blogger sarapakistan said...

شیعب صفدر
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔جی بلکل صحیح‌ فرمایا پردے کا تصور بدل جو گیا ہے۔۔۔۔۔
ساجد اقبال
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔شکر ہے آپ کو کھانا وقت پر مل گیا شاید دلہن کا انتظآر نہیں کرنا پڑا ہوگا تبھی۔۔۔۔۔۔

 
At January 29, 2009 at 11:56 PM , Blogger sarapakistan said...

افتخار اجمل بھوپال
سر بہت بہت شکریہ ۔۔آپ کی دعاوں کی بہت ضرورت ہے ۔۔۔
معاشرے میں 80% اپنا کردار ادا کرنے والے مرد پر 20 % زمے داری نہیں‌ڈالی جا سکتی۔۔۔۔۔۔کسی غلط کام کی پیروی کرنے میں ہم فیصد مقرر نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔اور اگر کریں گے تو شاید مرد کا حصہ زیادہ ہی بنتا ہے۔۔۔۔۔

 
At January 29, 2009 at 11:59 PM , Blogger sarapakistan said...

عین لام میم
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔اور جن بہت سی سے اتفاق نہیں کرتے ان کی طرف بھی اشارہ کردیا کیجیے ۔۔۔مجھے سوچنے کا موقع مل جائے گا۔۔۔۔۔

 
At January 30, 2009 at 12:00 AM , Blogger sarapakistan said...

Usama Zia
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔میڈٰیا میں جانے کا ارادہ تو ہے ۔۔۔۔دیکھیے کہاں جگہ بنتی ہے۔۔۔۔۔

 
At January 30, 2009 at 12:03 AM , Blogger sarapakistan said...

ابو شامل
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔معاشرے کے ہر مسلے میں اگر ہم خؤد کو بارش کا پہلا قطرہ بنا لیں تو بہت فرق پڑ سکتا ہے۔۔۔۔۔

 
At January 30, 2009 at 12:04 AM , Blogger sarapakistan said...

فیصٌل
بہت بہت شکریہ۔۔۔شکر ہے۔۔۔ہی ہی ہی
حسن مغل
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔
جہانزیب
بہت بہت شکریہ۔۔۔آپ کی تحریر کا انتظار رہے گا۔۔۔۔

 
At February 26, 2010 at 6:14 AM , Anonymous Zahara Alvi said...

بہت اچھی تحریر ہے سارا ..
کیا خوب عکاسی کی ہے آجکل کی شادیوں کی ..
اس دکھاوے کے چکر میں واقعی رشتوں کی اہمیت کہیں کھو کے رہ گئی ہے ..

 
At April 10, 2010 at 2:06 AM , Blogger Adil said...

Sara api.. Rida ko b bataeyn k mehram or namehram kia hota hai... sab info apne pas hi rakhi hoi hai? or keh keh rahi hai k main ne to suna tha k sab insan baraber hotay hain...

Nice... mujay ajka topic pasand aya...

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home